
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی مؤثر حکمت عملی، سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون کے نتیجے میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مجموعی جرائم میں 40 فیصد جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ کراچی شہر میں جرائم کی شرح گزشتہ کئی برسوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ وہ سندھ اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر محکمہ پولیس, داخلہ,اور قانون سمیت امن و امان سے متعلق اظہار خیال کر رہے تھے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ امن و امان کا قیام سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور وزیراعلیٰ سندھ کی مکمل سرپرستی میں پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی عالمی سطح پر خطرناک شہروں کی فہرست میں نمایاں بہتری کے ساتھ 170ویں نمبر پر آچکا ہے، جو امن و امان کی صورتحال میں مثبت تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کچے کے علاقوں میں مؤثر اور عملی اقدامات کے ذریعے امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے آپریشن “نجاتِ مہران” کے نتیجے میں گھوٹکی،کشمور، شکارپور اور سکھر کے کچے میں قائم نو گو ایریاز کا خاتمہ کیا گیا،اغوا برائے تاوان کی وارداتیں صفر کی سطح پر آچکی ہیں اور جہاں ماضی میں ریاست کی رٹ محدود تھی، آج وہاں پولیس، طبی عملہ اور اساتذہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہتھیار ڈالنے والے عناصر قانون کا سامنا کریں گے جبکہ امن کے قیام کے لیے پولیس، مقامی نمائندوں اور عمائدین کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی کو ایک بڑی تباہی سے بچالیا گیا،ضیاء الحسن لنجار نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں،جن کے نتیجے میں 66 دہشت گرد گرفتار کیے گئے، 642 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئےانہوں نے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے بروقت آپریشن کرتے ہوئے ممکنہ دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنایا۔انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن نجات کے تحت 539 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں میں ڈرگ ٹیسٹنگ کے مؤثر نظام پر سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد میں ضروری ترامیم کی گئی ہیں تاکہ غیرمعمولی حالات میں رجسٹریشن اتھارٹیز مناسب اقدامات کر سکیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ 14 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان منشیات کا سب سے بڑا ہدف بن رہے ہیں، اس لیے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں صحت کے اصولوں کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ کا نظام متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی میں موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں 7 فیصد کمی آئی ہے جبکہ گاڑیاں چھیننے اور دیگر سنگین جرائم میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2024 میں رپورٹ ہونے والے 577 پرتشدد جرائم کی تعداد کم ہو کر 180 رہ گئی ہے۔ اب تک 2 ہزار 400 سے زائد چھینے گئے موبائل فون برآمد کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 1 ہزار 300 ان کے اصل مالکان کے حوالے کیے جا چکے ہیں،جبکہ گاڑیاں چھیننے میں ملوث 496 ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موبائل فون اسنیچنگ کی روک تھام کے لیے سی پی ایل سی جدید ٹریکنگ ایپ تیار کر رہی ہے، جبکہ چوری شدہ موبائل فون کی خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ صوبے میں جدید فرانزک لیبارٹری کا منصوبہ جلد مکمل کیا جا رہا ہے، جس کے بعد تمام فرانزک ٹیسٹ سندھ میں ہی انجام دیے جائیں گے اور تفتیشی نظام مزید مؤثر اور تیز رفتار ہوگا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ پولیس میں جدید ڈرون سرویلنس کمپوننٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مذہبی جلوسوں، سیاسی اجتماعات اور دیگر اہم عوامی تقریبات کی مؤثر نگرانی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی سائبر کرائم قانون، ڈیفیمیشن قانون اور انسداد دہشت گردی سے متعلق قانونی اصلاحات بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ جدید جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے
