
کراچی کے نوجوان میر رضا کی موت کا سبب جاننے کے لیے قبر کشائی کیلئے نیا بنایا جانے والا بورڈ دوبارہ پچھلے بورڈ سے تبدیل کردیا گیا، قبر کشائی کل ہوگی۔
میر رضا کی قبر کشائی کیلئے پولیس اور دیگر حکام کو تیاری کرنے کا حکم دے دیا گیا، ہفتے کو صبح 11 بجے پوسٹ مارٹم کی کارروائی کی جائے گی۔
5 رکنی بورڈ کو دوبارہ 8 رکنی بورڈ سے تبدیل کردیا گیا ہے، پچھلے میڈیکل بورڈ کی بحالی کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ حکم نامے کے مطابق ڈاکٹر سمعیہ سید بورڈ کی کنوینر ہوں گی۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد پیتھالوجسٹ کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔ ڈاکٹر فرح وسیم بورڈ میں بطور فرانزک ایکسپرٹ شامل ہیں۔
سی پی ایل سی آفیسر عامر حسن خان بطور فرانزک آئیڈینٹفکیشن ایکسپرٹ شامل ہیں، ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا بھی بورڈ ممبر برقرار ہیں
اس سے قبل نوجوان میر رضا علی کی قبر کشائی آج ہونا تھی جو موخر کردی گئی، میڈیکل بورڈ کے ارکان تبدیل کرنے پر میر رضا کے والد میر حسین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب تک پرانا میڈیکل بورڈ بحال نہیں کیا جاتا، قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
میر حسین کے وکیل جبران ناصر نے بھی نئے میڈیکل بورڈ کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اور سیکریٹری صحت کو نوٹس بھیجا تھا
جبران ناصر نے موقف اپنایا تھا کہ کیس میں سیاسی مداخلت کی جارہی ہے۔ پولیس، محکمۂ صحت اور وزیراعلیٰ سندھ جواب دیں کہ پہلے 8 رکنی میڈیکل بورڈ سے لوگ کیوں فارغ کیے؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم اُسی میڈیکل بورڈ سے کروایا جائے جو عدالت کے حکم پر پولیس سرجن کراچی نے تشکیل دیا تھا۔
