
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ میررضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنادیا ہے کمیشن جب رپورٹ دے گا اس میں پولیس یا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ جس کی بھی کوتاہی ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
میئر نے کہا کہ پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے سرجن اسامہ کو پولیس نے بلایا ہے اور ان کا 161 کا بیان ریکارڈ ہوا ہے، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کا بیان بھی لیا ہے، پولیس ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو بھی دیکھ رہی ہے، جوڈیشل کمیشن جب اپنی فائنڈنگ دے گا تو معاملہ سامنے آجائے گا، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ یا پولیس، جس نے بھی حقائق چھپائے ہوئی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
میر رضا کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کیس کے لیے خصوصی ٹیم بنا کر تفتیش کروائی، ایم ایل او کی رپورٹ پولیس کے ساتھ شئیر کی گئی، پولیس سرجن صاحبہ نے کچھ شکوک ظاہر کیے، ایک عام بات سامنے آتی ہے کہ پولیس اپنا کام صحیح نہیں کررہی، نو اگست کو ڈی آئی جی عامر فاروقی صاحب نے تفتیش شروع کی، پہلی تفتیشی ٹیم کے کردار کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے، حکومت اور پولیس کوئی بھی کچھ بات کرتے تو وہ قابل قبول نہیں ہوتا اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں، وزیر داخلہ اور ایڈیشنل آئی جی مرحوم کے گھر جاتے ہیں ان کو یہ بات کہہ جاتی ہے کہ حکومت اس معاملے کی تہہ تک جانا چاہتی ہے، والدین کی موجودگی میں گفتگو ہوتی ہے اور کہتے ہیں ’’ہمیں انصاف چاہیے، ماں تکلیف میں کہتی ہے کہ مجھے انصاف چاہیے پولیس معاملے کو خودکشی کی طرف لے کر جارہی ہے‘‘، یہ سن کر ہم وہاں سے اٹھتے ہیں اور رات کو مرحوم کی والدہ کہتی ہیں کہ ابھی جوڈیشل کمیشن تشکیل نہ دیں، ہم فی الوقت عامر فاروقی سے مطمئن ہیں، وزیر داخلہ اور وزیر اعلی دونوں نے کہا جو اہل خانہ چاہتے ہیں وہی ہوگا، تفتیشی ٹیم کام شروع کرتی ہے 12 اگست سے اہل خانہ کے ساتھ ہر جگہ جانا شروع کیا، اہل خانہ اگر شک کا اظہار کرتی ہے تو اس شخص کو بلا کر تفتیش کی جاتی ہے پھر اہل خانہ کہتے ہیں آئی جی، وزیر داخلہ سب فیل ہوگئے۔
میئر کراچی نے کہا کہ ایک خط وزیراعلی کو موصول ہوتا ہے، 21 اگست کو وزیر اعلی نے ایک میٹنگ کال کی، آئی جی صاحب چیف سیکریٹری وزیر داخلہ اور تفتیشی ٹیم بھی شامل تھی، وزیراعلی نے پولیس سے اب تک کی تفتیش کے حوالے سے سوال کیا اور وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواباب مانگے گئے اب وکیل صاحب خود کہہ رہے ہیں کہ سب فیل ہوگئے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ پولیس کی غلطی کوتاہیوں کو بھی سامنے لایا جا سکے چنانچہ کابینہ کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ہفتے کو چیف جسٹس صاحب کو خط لکھا گیا، جسٹس عمر سیال صاحب کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا، تیس دن ہونگے جوڈیشل کمیشن کے پاس وہ تمام معاملے کو دیکھ سکیں اس دوران ہماری پولیس کمیشن کو ہر طرح سپورٹ کرے گی تاکہ حقائق سب جان سکیں۔
