
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں پر 20 فیصد ٹول عائد کرنے کے اعلان نے خلیجی اتحادی ممالک اور امریکی انتظامیہ میں تشویش پیدا کر دی تھی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد فیس وصول کرنے کے اعلان کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کے رہنماؤں نے فوری طور پر ٹرمپ سے رابطے کیے اور منصوبہ واپس لینے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ امریکا اب ’آبنائے ہرمز کا محافظ‘ ہو گا اور اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔
سی این این کے مطابق اس اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس میں بھی غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی کیونکہ حکام یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ فیس کس سے وصول کی جائے گی، رقم کیسے جمع ہو گی اور اس کا بوجھ براہِ راست شپنگ کمپنیوں یا خلیجی ممالک پر پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ہی ٹرمپ نے صرف 24 گھنٹوں کے اندر اندر منصوبہ واپس لے لیا۔
انہوں نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ خلیجی ممالک نے ٹول ادا کرنے کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کے بادشاہوں اور امیروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور متبادل طریقۂ اختیار کرنے کی درخواست کی جسے میں نے قبول کر لیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ امریکا برسوں سے خطے میں بحری جہازوں کی حفاظت کرتا آ رہا ہے اس لیے فیس کا خیال زیرِ غور تھا تاہم خلیجی ممالک کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کی پیشکش کے بعد یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے کئی ماہ سے اس تجویز کی مخالفت کی تھی، انہیں خدشہ تھا کہ اس اقدام سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ تھا کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور یہ امریکا کے اس مؤقف کے بھی خلاف ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر کوئی ملک فیس عائد نہیں کر سکتا۔
یاد رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی چند ہفتے قبل کہا تھا کہ بین الاقوامی آبی راستوں پر ٹول یا فیس وصول کرنا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کو اپنے مؤقف کے حق میں استعمال کیا تھا۔
