
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ہے، نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی اس مسئلےکا حل ہیں، موجودہ نظام گر چکا، نوجوان یا کاکروچ اکٹھے ہوگئے توہر چیز الٹ دینگے، لیپ ٹاپ یا دوچار ہزار دیکر خاموش نہیں کیا جاسکتا۔
نوجوان میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع اور ایک “درست و شفاف نظام” چاہتے ہیں،جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے، پی ٹی آئی سمیت سب جماعتیں متحدہوں، اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں،حکومت مدت پوری کریگی، صدارتی نظام کی بات نہیں کررہا،وزیراعظم 18 گھنٹے بھی کام کرلیں، ہم صرف فائر فائٹنگ کررہے ہیں،اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کی تقریب سے خطاب میں محسن نقوی نےکہا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ سیاسی تقریر نہ کروں، آج تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی، جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں یہ گرچکا ہے، اس میں مسائل حل نہیں ہوسکتے، یہ نظام چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم بیٹھ کر ان مسائل پر بات کر رہے ہوں گے، جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے، سوال یہ ہےکہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا؟ جس دن آپ لوگوں نے ٹھیک کرنےکا فیصلہ کرلیا تو یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کہیں، یا صوبے جو بھی نام دیں، ہمیں ان کی طرف جانا ہوگا، جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے ملک ایسے ہی چلتا رہےگا، نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا۔نو جوانوں کو وظائف اور ٹیبلٹس دینے سے وہ خوش نہیں ہوں گے، نوجوان میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع اور ایک “درست و شفاف نظام” چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنا حق مانگ رہے ہیں ، آپ نوجوان کہیں یا کاکروچ اگر یہ اکٹھے ہوگئے توہر چیز کو الٹ سکتے ہیں، کونسا گھر ہے جو مہینہ شروع ہونے پر لاکھوں روپےکا مقروض ہو اور چلایا جائے، ہم اپنا بجٹ نیگیٹو میں بناتے ہیں کہ اس سال کتنا قرضہ دینا ہے، ہم قرض اور لیتے رہیں گے، اس کو ٹھیک نہیں کریں گے، آپ کا ہر سال قرضہ بڑھتا جارہا ہے، جب تک اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے بہتری نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 12-14 گھنٹے کام کرتے ہیں، وزیراعظم 18 گھنٹے بھی کام کرلیں، ہم صرف فائر فائٹنگ کر رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں کے تاجروں نے اپنے مسائل بتائے اور ساتھ ساتھ اپنا غم بھی بتا رہے تھے کہ یہ پاکستان میں یہ بھی ہوسکتا ہے اور مواقع بھی بتا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے میں اس کے ذمہ دار جتنے لوگ ہیں وہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، ایک چیز جو 70 اور 80 سال سے نہیں چل رہی اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی، میں پچھلے تین سال سے سیاست میں زیادہ فعال ہوں تو میں آپ کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ لوگ 10 سال بھی اسی طرح بیٹھ کر یہی باتیں کر رہے ہوں گے، اسی طرح تقریریں کر رہے ہوں گے کیونکہ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں یہ سسٹم گر چکا ہے، آپ مان لیں یا نہیں۔
