
کراچی شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، شہر بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق، دوپہر 2 بجے کے قریب درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ نمی کی سطح تیزی سے گر کر صرف 8 فیصد رہ گئی، جس سے خشک گرمی کی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔
شمال مغرب سے 15 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی گرم ہوائیں جھلسا دینے والی ہواؤں میں تبدیل ہو گئی ہیں جس سے شہریوں کے لیے ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ہوا میں نمی کی کمی نے گرمی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے جس سے شہریوں کو شدید موسم کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کی بنیادی وجہ خشک اور گرم ہوائیں ہیں۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں، ہائیڈریٹڈ رہیں اور گرمی سے متعلق بیماریوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
شدید درجہ حرارت کے اس دوران ہیٹ اسٹروک کے کیسز بڑھنے کے امکانات کے باعث ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے
ریسکیو ذرائع کے مطابق منشیات کے زیادہ استعمال سے 3 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 4 افراد شہر بھر میں طبی مراکز میں دوران علاج دم توڑ گئے۔
ریسکیو رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کراچی میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث شدید گرمی کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ حکام نے منگھوپیر، گلشن حدید اور ڈیفنس فیز 8 سمیت علاقوں سے بھی تین لاشیں برآمد کیں
