
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا علی کے مبینہ قتل کیس میں والد کی جانب سے دائر قبر کشائی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کو اختیار ہے کہ تفتیشی افسر کو نوٹس کیے بغیر بھی قبر کشائی کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آج ہی درخواست دائر کی جائے اور آج ہی حکم بھی جاری کر دیا جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تدفین کہاں ہوئی ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ تدفین فیروز آباد قبرستان، تھانہ فیروز آباد کی حدود میں ہوئی ہے۔
سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے قبر کشائی پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قبر کشائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور کہا کہ درخواست پر فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔
بعد ازاں عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے میر رضا علی کی قبر کشائی کا حکم دے دیا۔
نوجوان میر رضا کی قبر کشائی کل صبح 9 بجے ہوگی۔میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے ، جس میں پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد (ایچ او ڈی پیتھالوجی، ڈاؤ میڈیکل کالج) شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈاکٹر فرح وسیم (اسسٹنٹ پروفیسر فرانزک میڈیسن، سندھ میڈیکل کالج)، عامر حسن خان (فرانزک آئیڈنٹیفیکیشن ایکسپرٹ، سی پی ایل سی) ، ڈاکٹر شری چند (ایڈیشنل پولیس سرجن) ، ڈاکٹر کامران خان (ڈی ایم جے میڈیکو لیگل آفیسر، جناح اسپتال)بھی بورڈ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر دانیال مرزا(میڈیکو لیگل آفیسر، جناح اسپتال)، ایڈمن انچارج پولیس سرجن ڈاکٹر محمد یاسین، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ بورڈ کا حصہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ میر رضا کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ پر مختلف سوالات اٹھائے گئے تھے، جس کے بعد اہلخانہ نے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
