
“مجسٹریٹ صاحب! مجھے اپنی بیوی کو قتل کرنے پر ذرہ برابر بھی شرمندگی نہیں ہے۔” 65 سالہ اصغر نامی شخص کے اس سفاک اعتراف نے پورے کمرہِ عدالت میں سناٹا چھا دیا۔
یہ کوئی عام قتل نہیں تھا۔ اصغر اور اس کی 58 سالہ بیوی کی بظاہر پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے پیچھے پچھلے 5 سالوں سے ایک آگ سلگ رہی تھی۔ اصغر کے مطابق، اس کی بیوی نے اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات بالکل ختم کر دیے تھے۔
وقوعہ کی رات جب اصغر نے اسے قریب بلایا تو اس نے نہ صرف صاف انکار کیا، بلکہ پاس پڑی قینچی اٹھا کر دھمکی دی: “اگر اب تم نے مجھے مجبور کیا تو میں اسی قینچی سے تمہارا نفس کاٹ دوں گی!”
اس ایک جملے نے 65 سالہ اصغر کے سر پر خون سوار کر دیا۔ اس نے پاس پڑا لوہے کا بھاری راڈ اٹھایا اور اپنی بیوی کے سر پر اتنے وار کیے کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ لیکن اصل لرزہ خیز بات اس کے بعد ہوئی۔ اصغر لاش کے پاس سے اٹھا، اطمینان سے خون دھویا، وضو کر کے نماز ادا کی اور پھر وہ خون آلود راڈ لے کر سیدھا تھانے جا کر گرفتاری دے دی۔
عدالت میں اس نے سینہ تان کر کہا: “میرا مذہب مجھے اس کا حق دیتا ہے۔ میرے بچے دودھ پیتے نہیں، انہیں سب پتا ہے۔ میں اپنی قانونی جنگ خود لڑوں گا!”
قانون اور معاشرہ اس وقت مزید بے بس ہو گیا جب اصغر کے سگے بیٹوں نے بھی اپنی سگی ماں کے قتل کی ایف آئی آر اپنے باپ کے خلاف کٹوانے سے صاف انکار کر دیا۔ بالآخر بیٹوں کے مکر جانے پر، پولیس کو خود مدعی بن کر اس قاتل کے خلاف مقدمہ درج کرنا پڑا۔
