کراچی : صدر گل پلازہ شاپنگ پلازہ تنویر پاستا نے میڈیا سے گفتگو کرتے بتایا کہ آگ گراؤنڈ فلور پر واقع پھلوں کی دکان میں لگی اور پھر ہر طرف پھیل گئی ۰
دکان داروں نے پاس موجود سلنڈرز کے ذریعے آگ بھجانے کی کوشش گئی ،کے الیکٹرک نے فوری سپلائی بند کی جبکہ فائر ٹینڈرز ایک گھنٹے بعد پہنچے اور مہارت سے وقت پر آگ پر قابو پانے میں ناکام رہے، مسلسل پانی اور ڈیزل ختم ہونے کا بتاتے رہے اسنارکل میں بھی فنی خرابی کا بتایا، انکے پاس اندر جانے کے لیے سیفٹی کٹ اور اکسیجن ماسک بھی نہ تھے، نشاندہی کے اوپر نکالی گئی لاش پر دو ادارے لژتے رہے جیسے کوئی خزانہ ہو. انھوں مزید بتایا کہ بلڈنگ میں تیرہ بیرونی راستے تھے مگر ان کے ذریعے جانے کی کوشش نہ کی گئی۰
انھوں نے شکوہ کیا کہ وزیر اعلی ، مئیر کراچی اور سندھ حکومت کا کوئی بھی نمائندہ موقع پر نہیں پہنچا، صرف گورنر سندہ آئے.انھوں نے کہا بارہ سو کے قریب بلڈنگ میں دکانیں ہیں، اربوں کا نقصان ہوا ہے قیمتیں جانوں کا نقصان ہوا سندھ حکومت کو ہر حال میں ادائیگی کرنی ہوگی انکی وجہ سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے۰
