
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے پیر کے روز کہا کہ ایران کی قیادت امریکہ کو ذلیل کر رہی ہے اور امریکی حکام کو پاکستان بھیج کر بغیر کسی نتیجے کے واپس لوٹا رہی ہے۔ انہوں نے ایران کے تنازع پر ایک غیر معمولی سخت ردعمل دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
فریڈرک مرز نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ امریکہ اس جنگ سے نکلنے کی کون سی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکہ اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے درمیان گہرے اختلافات کو ظاہر کرتی ہے، جو پہلے ہی یوکرین اور دیگر معاملات پر موجود تھے۔
انہوں نے جرمنی کے شہر مارسبرگ میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بہت ماہر مذاکرات کار ہیں یا یوں کہیں کہ مذاکرات نہ کرنے میں بہت ماہر ہیں، اور وہ امریکیوں کو اسلام آباد بھیج کر بغیر کسی نتیجے کے واپس بھیج دیتے ہیں۔ فریڈرک مرز کے مطابق ایک پوری قوم کو ایرانی قیادت، خاص طور پر انقلابی گارڈز، کے ذریعے ذلیل کیا جا رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ صورتحال جلد ختم ہو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنی بحری افواج نہیں بھیج رہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ تقریباً بند ہے جس سے توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا ہے۔
فریڈرک مرز نے کہا کہ یورپ اور جرمنی کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے پہلے مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا، اور انہوں نے بعد میں اپنی تشویش براہِ راست ٹرمپ کو بتائی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے کچھ حصے میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، اور یورپ نے پیشکش کی ہے کہ جرمن مائن سویپرز کو بھیجا جائے تاکہ اس راستے کو صاف کیا جا سکے۔
فریڈرک مرز کے مطابق یہ تنازع جرمنی کو بہت زیادہ پیسہ، ٹیکس دہندگان کے وسائل اور معاشی طاقت کے نقصان میں مبتلا کر رہا ہے
