
سنگاپور کے پرچم بردار دو تجارتی جہاز ہرمز میں نشانہ بنے، ایک ڈوب گیا۔
حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر مزید حملوں کا اعلان کر دیا، ریاض میں آئل ریفائنری، شاہ خالد ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ظہران شہر میں حملے کے نتیجے میں آرامکو ہیڈ کوارٹرکوبڑے پیمانے پر نقصان پہنچااورآگ کئی منزلوں تک پھیل گئی جبکہ اوپر کی تین منزلیں تباہ ہوگئیں، ملازمین گھر سے کام کر رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص زخمی جب کہ ایک رہائشی مکان اورگاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے کہا کہ اس نے بدھ کو حوثیوں کا ایک بیلسٹک میزائل روک لیاجبکہ سعودی دارا لحکومت میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ذرائع کے مطابق اٹلی کی آئی ٹی اے ایئرویز نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی میں 18 نومبر تک توسیع کر دی ہے جب کہ حوثی حملوں کے بعد سعودیہ میں ٹینس ٹورنامنٹ اور سعودی پروفیشنل فٹ بال لیگ کے تین میچز ملتوی کر دیے گئے۔
یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کے مبینہ استعمال کا معاملہ بیجنگ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے جب کہ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے انتہائی جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔
ایران کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اس بار امریکا کیلئے اس کے نتائج کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوں گے۔
