
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں انتخابی شکست کے بعد ممتا بنرجی نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ میں کرسی سے چمٹی نہیں ہوں، میں ایک آزاد پرندہ ہوں اور میں استعفیٰ نہیں دوں گی، کیونکہ میں ہاری نہیں ہوں۔
اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 مئی کو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہو جائے گی، اس کے بعد ممتا بنرجی خود بخود وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گی، استعفیٰ دینا محض ایک رسمی عمل ہے، قانونی طور پر مدت ختم ہونا ہی کافی ہے۔
دوسری جانب مغربی بنگال میں اتنخابی نتائج آنے کے بعد مختلف علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نتائج آنے کے ساتھ ہی ریاست کے مختلف علاقوں میں کشیدگی بڑھ گئی، آل انڈیا ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ ان کے ایک کارکن کو قتل کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کولکتہ کے علاقوں ٹالی گنج اور کاسبا سمیت، باروئی پور، کامار ہٹی، بارانگر اور بہارم پور میں پارٹی دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا۔
واضح رہے کہ بھارت کی 5 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مختلف ریاستوں میں سیاسی منظرنامہ واضح ہو گیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بڑی برتری حاصل ہوئی ہے اور وہ 206 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس تقریباً 80 نشستیں حاصل کر سکی ہے، 294 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 148 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
اس دوران ووٹر فہرستوں کی نظرثانی ایک بڑا تنازع بنی رہی، تقریباً 30 لاکھ مسلمانوں اور سرحدی مہاجروں کو ووٹ ڈالنے سے محروم رکھا گیا، جبکہ ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر انتظامی حربوں کے ذریعے ووٹر توازن بدلنے کا الزام عائد کیا۔
دوسری جانب بی جے پی کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی ہجرت اور جعلی ووٹروں نے انتخابی نظام کو متاثر کیا ہے۔
