
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان پر 100 میزائلوں سے حملہ کیا جس میں 254 افراد ہلاک ہو گئے، جس کے نتیجے میں صورتِ حال شدید کشیدگی کا شکار ہو گئی۔
اس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے 3 بڑے آپشنز رہ گئے ہیں، جنگ دوبارہ شروع کریں، سفارت کاری کو آگے بڑھائیں، یا اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل ہونا چاہیے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف کرتے ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بیروت پر حملوں کو علیحدہ جھڑپ قرار دیا اور کہا کہ حزب اللّٰہ کی موجودگی کے باعث لبنان کو جنگ بندی میں شامل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اس معاملے کو بھی نمٹا لیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے اپنے مؤقف کو واضح رکھتے ہوئے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور لبنان میں حزب اللّٰہ کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
اگر امریکا دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ایران کی جانب سے شدید ردعمل متوقع ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں توانائی کا بحران شدت اختیار کرے گا اور عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ فیصلہ امریکی داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل، کیونکہ جنگ بندی کو ٹرمپ کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
