
حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق چینی کے شعبے سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا۔ شوگرسیکٹرکو ڈی ریگولائز کرنے کے لئے جامع پلان تیارکرلیا گیا۔ کسانوں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہو گی۔ شوگرایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی اٹھا لی جائے گی۔
حکومت گندم کے بعد چینی کا شعبہ بھی مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے پر تیار ہوگئی ۔ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا جامع پلان سماء نے حاصل کر لیا ۔ دستاویزکے مطابق کسانوں پر گنے کی کاشت کیلئے اقسام یا کسی زون کی پابندی نہیں ہو گی ۔ وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں بھی آزاد ہوں گے ۔ گنے کی قیمت کا تعین سرکار نہیں مارکیٹ کرے گی۔
مجوزہ پلان کے مطابق حکومت چینی کی برآمد پر آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دے گی۔ ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی ختم کر دی جائے گی ۔ شوگرملز کیلئے ایکسپورٹ کوٹہ بھی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ شوگر ملز خام چینی باہر سے منگوا کر ری ایکسپورٹ بھی کر سکیں گی ۔ شوگر ملز کو گنے یا درآمدی خام مال کی پراسیسنگ کی مکمل آزادی ہو گی۔
دستاویز کے مطابق حکومتی کمیٹی نےچینی کی درآمد و برآمد پرعائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کسانوں کو نقصان سے بچانے کیلئے گنے کی ممنوعہ اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے۔
