
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں، دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کی دو ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرلیا، سیز فائر کی منظوری نئے سپریم لیڈر نے دی تھی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نےجنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط مان لیں، صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی بندی کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے بارے میں مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا، مخصوص شرائط کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی قائم کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دو ہفتے کی مدت میں معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی، ایران کی طرف سے آنے والے لمحات میں مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔
ایرانی ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا کہ سپریم سیکیورٹی کونسل کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا کو 10 نکاتی تجویز دی ہے، تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکا سے بات چیت اسلام آباد میں ہوگی۔
ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت کا آغاز جمعہ 10 اپریل سےہوگا، دونوں فریقین نے اتفاق کیا تو مذاکرات کی مدت میں توسیع ہوسکتی ہے۔
بات چیت کا مقصد زیادہ سے زیادہ 15دنوں کے اندر ایران کی میدان جنگ میں کامیابیوں کی سیاسی طور پر تصدیق کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی جانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کی درخواست کو قبول کرلیا ہے۔
