
ایران کے پاس یقینی طور پر کوئی نہ کوئی قابل بھروسہ پشت پناہی ہونی چاہیے جسکی وجہ سے وہ نہ صرف سپر پاور امریکہ اور اسرائیل سے بیک وقت نبردآزما ہے بلکہ بغیرکسی خوف و خطر مشرق مشرق وسطیٰ میں ہر جگہ امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے جو ممالک امریکی حملوں کو اپنے ملک سے نہ روک سکے وہ اسکی نظر میں بلا واسطہ ملوث ہوگئے واضع رہے برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے زیر استعمال اڈے سے امریکی حملوں کی اجازت دینےسے امریکا کو انکار کردیا تھا جبکہ یوکرین کو دفاع کے لیےمغرب نے روس کے خلاف ہتھیار دیئے ہوئے ہیں اور ایران سے کم طاقتور ہونے کے بعد بھی کافی عرصے سے جنگ لڑ رہا ہے تو پھر یہ جنگ کہاں جلد ختم ہوگی
زمانے سے ایران پر نیوکلئیر ہتھیار نہ بنانے پر امریکی دباؤ تھا اسکو معلوم تھا امریکی میدان پر نہیں اترتے اور روایتی جنگوں میں بی باون جیسے بومبر استعمال کرتے ہیں اور لگتا یہ ہے اسکے نقصان سے بچنے کے لیے کافی انتظام کیا ہوا ہے اورپوشیدہ مرکزوں میں کئی عرصے تک بلائسٹک میزائیل اور ڈرون بناکر اربوں ڈالرز اور جانوں کا نقصان کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں کیونکے انکے دفاع کے لیے اینٹی میزائیل سسٹم کی لاگت سے امریکہ اسرائیل کا دیوالیہ ہوجائیگا اور آبنائے ہرمز میں صرف ایک حملہ کھڑے آئل ٹینکرز کو راکھ کردیگا ایسے بہت سے اقدام ہوسکتے ہیں ایران پورے خطے کو مفلوج کردیگا پھر صرف تباہی ہے
عراق اور لیبیا کے برعکس ایران کی لیڈرشپ کی جڑیں عوام میں گہری ہیں جو کربلا کی شہادت کے سخت نظریات پر ہیں یہ ایٹمی قوت سے کم ہرگز نہیں
