
افغانستان پر انحصار ختم، پاکستان نے ایران اور وسط ایشیاء کیلئے نیا تجارتی راستہ کھول دیا، کراچی سے تاشقند گوشت کی پہلی کھیپ روانہ، فاصلے اور اخراجات میں بڑی کمی متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل لاجسٹک کارپوریشن ( این ایل سی )نے گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی سڑکوں کے ذریعے ترسیلی نظام (ٹی آئی آر) کیلئے فعال کردیا، اس پیشرفت کی بدولت پاکستان کے علاقائی تجارتی روابط کو بذریعہ ایران فروغ حاصل ہوگا۔
ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی روایتی افغانستان روٹ سے زیادہ مختصر، محفوظ اور جدید ہے، ایران کے ذریعے مختصر اور موثر متبادل راہداری نے پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی کو یقینی اور افغانستان پر انحصار ختم کر دیا ہے۔ یہ سنگِ میل کراچی سے تاشقند بھیجی گئی گوشت کے کنٹینروں کی ترجیحی ہینڈلنگ اور کلیئرنس سے عبور ہوا، کسٹم کارروائی مکمل ہونے پر یہ کھیپ ٹی آئی آر فریم ورک کے تحت ایران کے راستے ازبکستان روانہ کردی گئی ہے۔
این ایل سی نے چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر ممالک تک متعدد تجارتی راہداریوں کو فعال کیا ہے،پاک ایران تجارت کو باضابطہ بنانے کیلئے این ایل سی نے مارچ 2024 میں گبد بارڈر ٹرمینل تعمیرکیا تھا۔ معاشی ماہرین کے مطابق سٹریٹجک طور پر اس پیشرفت سے چین کے بعد اب وسطی ایشیا میں برآمدات ایران کے راستے بھی بڑھائی جا سکتی ہیں،نئے روٹ سے فاصلہ کم، لاجسٹکس اخراجات میں کمی، تجارت بہتر اور افغانستان پر انحصار ختم ہو گیا ہے، یہ اقدام پاکستان کو ریجنل کنیکٹوٹی ہب بنا کر وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرے گا۔
