
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی طرف سے بجلی کھپت کی بجائے لوڈ کی بنیاد پر فکسڈ چارجز عائد کیے جانے کے بعد گھریلو صارفین کے بلز میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔
صارفین شدید پریشان، فروری کے بل دیکھ کر بلبلا اٹھے۔ اس سے قبل صرف 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر کھپت کی بنیاد پر 200 روپے سے ایک ہزار روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد تھے۔
نیپرا نے یکم جنوری 2026 سے بجلی کے نئے ٹیرف میں وفاقی حکومت کی درخواست پر گھریلو صارفین کے بلوں میں فکسڈ چارجز کو کھپت کی بجائے فی کلو واٹ لوڈ سے منسلک کر دیا تھا۔
اب فروری کے بجلی بل آئے تو صارفین بلبلا اٹھے، معاملہ یہ ہے کہ اگر آپ کا لوڈ زیادہ ہے تو بجلی کم بھی استعمال کریں تو بل بہت اوپر جائے گا۔ اب نئے ٹیرف کے تحت لائف لائن صارفین کے سوا تمام گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز لگ چکے ہیں اور وہ بھی فی کلو واٹ لوڈ کے حساب سے۔
سادہ الفاظ میں بس یوں سمجھ لیں کہ آپ کے بجلی بل پر جو منظور شدہ لوڈ ہے، اسے اپنے موجودہ بل کے یونٹس کے سلیب کے مطابق فی کلو لوڈ سے ضرب دے لیں۔
ایک مثال یوں ہے کہ اگر منظور شدہ لوڈ 5 کلو واٹ ہے اور بل کے یونٹس کے مطابق سلیب 201 سے 300 والا بنتا ہے تو فکسڈ چارجز کے نرخ 350 فی کلو واٹ کے حساب سے لگیں گے اور یہ بنتے ہیں 1750 روپے۔
اس سے قبل صرف 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر کھپت کی بنیاد پر 200 روپے سے ایک ہزار روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد تھے۔ فکسڈ چاجز اب لائف لائن صارفین کے سوا اب تمام گھریلو صارفین پر عائد کیے گئے ہیں جو 200 سے 675 روپے فی کلو واٹ سلیب کے مطابق ہوں گے۔
